نئی دہلی 6اپریل(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) پارلیمنٹ میں جمعرات کو اپوزیشن کا اتحاد ایک نئی شکل میں دیکھنے کو ملا۔ تمام اپوزیشن پارٹیوں نے پارلیمنٹ کے احاطے میں گاندھی جی کے مجسمہ کے سامنے انسانی زنجیر بنا کر حکومت کے خلاف زبردست مظاہرہ کیا۔ مظاہرہ میں سونیا گاندھی راہل گاندھی سمیت تمام اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈر ان موجود تھے۔راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے رہنما غلام نبی آزاد نے کہا کہ احتجاج میں 17 پارٹی شامل ہے اور یہ ظاہر کرتی ہے کہ اپوزیشن اتحاد کتنی مضبوط ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس احتجاجی مظاہرے میں وہ پارٹیاں بھی شامل ہے، جو کبھی این ڈی اے کا حصہ ہوا کرتی تھی، لیکن اب حکومت کے خلاف ہمارے ساتھ متحد ہیں۔ غلام نبی آزاد نے کہا کہ اپوزیشن کا اتحاد 2019 کے انتخابات تک نہ صرف قائم رہے گا ؛ بلکہ اس میں مزیداضافہ ہوتا رہے گا۔غلام نبی آزاد نے این ڈی اے کے ممبران پارلیمنٹ کی تنخواہ بھتہ نہیں لینے کے اعلان پر کہا کہ انہیں تنخواہ بھتہ لینے کی ضرورت بھی نہیں ہے، کیونکہ ان کے پاس ہزاروں کروڑوں روپے ہیں۔سماج وادی پارٹی کے راجیہ سبھا سے رہنما جیا بچن نے کہا کہ اس مظاہرے کا مقصد لوگوں کا یہ وہم دور کرنا ہے کہ پارلیمنٹ اپوزیشن کی وجہ سے نہیں چل رہا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پارلیمنٹ نہیں چلنے دینے کے تعلق سے حکومت مجرم ہے۔سماج وادی پارٹی کے ہی رہنما دھرمیندر یادو نے کہا کہ حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو رہی ہے اور لوگوں کے ذہنوں میں حکومت کے تئیں اشتعال ہے ۔ پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کا دوسرا حصہ تقریبا بغیر کوئی کام کئے ختم ہونے والا ہے۔ جمعہ کو اس سیشن کا آخری دن ہوگا۔ مظاہرے میں تمام اپوزیشن پارٹیاں اپنے اپنے حساب سے مختلف مسئلہ اٹھا رہی تھی کچھ کسانوں کا مسئلہ اٹھا رہی ہے توکچھ ممبران پارلیمنٹ نے دلتوں پر ظلم کا، کچھ پٹرول ڈیزل کی قیمتوں کا، کچھ بینکوں کے گھوٹالے کا مسئلہ اٹھایا۔ آندھرا پردیش کے ایم پی اپنی ریاست کے لیے خصوصی پیکیج کا مطالبہ کر رہے تھے تو انادرمک کے ایم پی کاویری مسئلہ کی تختی لئے مظاہرہ کرتے ہوئے نظرآئے ۔